محبت درس قدرت

محبت درس قدرت

چاند کے گرد گھیرا ڈالے آسمان پہ ابھرے چمکتے ستارے ،زمین پہ برستی بارش کی ٹپ ٹپ  کرتی بوندیں،سرسبز پتوں پہ بکھرے شبنم کےشفاف قطرے ،زمین کی کھیتی سے جنم لیتے خوش رنگ پھول سب محبت کی ہی تو مثالیں ہیں،ان کا وجود محبت کی ہی تو گواہی دیتا ہے،چاند کے گرد جگمگ کرتے ستارے زمین والوں کو پیغام دیتے ہیں کہ ہم چاند سے محبت ہی کی بنا پر اس گرد گھیرا  ڈالے روشن کھڑے ہیں ،بارش کی ٹپ ٹپ کرتی زمیں پہ پڑتی بوندیں انسان کویہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم اس زمین کی محبت میں ہی اسے زرخیز کرتے ہیں ،سرسبز پتے یہ گواہی دیتے ہیں کہ ان پہ بکھرے شبنم کے شفاف قطروں نے انھیں تازگی بخشی اور زمین کی کھیتی سے جنم لینے والے پھول زمین سے محبت کے گواہ ہیں

غرض یہ کہ کائنات کی ہر شہ ہی پیار ومحبت کے رنگ بکھیرتی اور انسان کو یہ باور کراتی نظرآتی  ہے کہ انسان کو تو تخلیق ہی محبت کے لیے کیا گیا،انسان کی تخلیق کی وجہ بھی محبت ہی بنی،کائنات کا ذرہ ذرہ ،قدرت کا تمام نظام محبت کا ہی درس دیتا یے۔مگر نجانے کیوں  آج یہ انسان اپنی اصل حقیقت بھلا بیٹھا ہے اور محبت کے بجائےدل میں نفرت کو جگہ دینے لگا ہے اس کی آنکھیں نفرت اور حسد دیکھنے لگی ہیں ،کان بغض و عداوت میں ڈوبے جملے سننے لگے ہیں ،ناک تعصب کی بو سونگھنے لگا ہے اور زبان زہر  ہی زہر اگلنے لگی ہے اور پھر وہی ہوا ہے جو ہونا تھا ہمارا دل ودماغ ہمارا ذہن اتنا چھوٹا ہو گیا  کہ ہم لفظ محبت کو صرف اپنے مطلب تک محدود کر بیٹھے کبھی اسے مذہب کی محبت کا لبادہ اوڑھا کے معصوم ذہنوں میں نفرت بھرنے لگے تو کبھی اپنے علاقے سے محبت کے نام پر علیحدگی کا سامان کرنے لگےہیں ،کبھی کسی تعصب کی آڑ لے کر فرقہ واریت پھیلانے لگے تو کبھی محبت جیسے پاکیزہ جذبے کوہوس کا لبادہ اوڑھا کر مرد و عورت کے تعلق تک محدود کر لیا اور معصوم ذہنوں کو وہ سبق پڑھایا گیا کہ وہ ہوس کو محبت سمجھ بیٹھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سرعام عزتیں نیلام ہونے لگیں وہ معصوم کلیاں جنھیں ابھی کھلنا تھا مرجھانے لگیں ،معصوم پھول جنھیں اپنی خوشبوئیں بکھیرنی تھی درندوں کی ہوس کا شکار ہو بیٹھے، اور علاقائی نفرت اور  تعصب محبت کا لبادہ اوڑھےخون کی ندیاں بہانے لگی اور محبت شرم سے پانی پانی ہونے لگی کہ اس کے پاکیزہ نام پہ انسانوں کے بیچ یہ کیسا کھیل کھیلا جانے لگا ہے۔

گو کہ قدرت کاہرنظارہ انسان کو محبت کا درس دیتا ہے،دنیا کا ہر مذہب محبت کرنا سیکھاتا ہے مگر ہم انسانوں کے بیچ کچھ ایسے درندے جنم لے چکے ہیں جو ملک و مذہب  سے محبت کی آڑ لے کر نفرتیں اور انتشار پھیلاتے ہیں،جو معصوم جانوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں ، جو محبت کے نام  پر ہوا کی بیٹیوں کی عزتوں سے کھیل کر انھیں  کچرے کے ڈھیروں کے حوالے کر دیتے  ہیں خدارا پہچانئے ایسے درندوں کو ان کے حربوں اور چالوں کو جو محبت جیسے مقدس جزبے کو پامال کرتے ہیں غور کیجیے اور سمجھئے کہ جیسے ستاروں کی چاند سے محبت ،برستی بوندوں کی زمیں سے محبت ،شبنم کے قطروں  کی پتوں  کے لیے چاہت اور زمیں کا پھولوں سے پیار کس قدر انمول ہے کہ نہ صرف خود کے لیے بلکہ انسانوں ،حیوانوں سب کے لیے خالص اور مفید ہے،جس میں کہیں بھی نفرت کی آمیزش نہیں ۔خدارا قدرت کے ان نظاروں سےسبق سیکھئےاور   ایسی محبتوں کے سفیر بنیے  جو ہوس، نفرت اور تعصب کی بو سے پاک اور خالص ہو۔

سیدہ ظل ھدی