علم کا زیور

علم کا زیور

سیدہ ظلِ ھدی
علم کا زیور پہنے ،عمل کا سنگار کیے ہنستےمسکراتے اجلے چہرے اپنے گرد وپیش کو مہکا رہے تھے ،سورج پورےآب وتاب سے روشن، اندھیرے کو اجالے میں بدلنے کے لیے بےتاب تھا،ہرطرف روشنیاں ہی روشنیاں بکھر رہی تھی کہ اچانک ہی ایسی آندھیاں چلی جو علم سے عمل کا سنگار لے اڑی اور پھر یوں ہوا کہ روشنیاں بجھنے لگیں ،ہنستے مسکراتے اجلے چہرے زرد پڑنے لگے،سورج کو کالے گھنیرے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔پھر سورج تو رہا،حسین چہرے بھی رہے،علم بھی رہا مگر عمل کا سنگار کئی کھو گیا اور تعلیم کا مقصد محض نوکریوں کا حصول رہ گیا،قوم میں کوئی جذبہ نہ رہا اور حالات ابتر سے ابتر ہونے لگے۔تعلیم محض دکھاوا بن کر رہ گئی ۔
وہ تعلیم جسے انسان میں شعور پیدا کرنا تھا،انسان کو انسان بن کر جینے کا ڈھنگ سیکھانا تھا،وہی تعلیم انسان میں خواہش پیدا کرنے لگی اوروں کو پیچھے چھوڑ جانے کی خواہش ،دوسروں کو نیچا دیکھانے کی خواہش ۔مگر بات یہاں پہ ہی ختم نہ ہوئی بلکہ ان خواہشات نے اور بھی سنگینی اختیار کر لی اور حسد،نفرت ،جلن اور بغض وعناد جیسے جذبوں کا روپ دھار لیا۔کہنے کو تو مقابلے کا دور چل نکلا مگر ساتھ کئی قباحتیں بھی لے آیا۔وہ ماں باپ جن کا کام بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی تھا کچھ ایسی تربیت کرنے لگے کہ جس کے مطابق دوسرے کی مات ان کے اور ان کے بچوں کے لیے راحت کا باعث بننے لگی اور یہ سلسلہ صرف تعلیم کی حد تک ہی محدود نہ رہا بلکہ بچوں نے والدین کو کسی کی ناکامی پہ خوش ہوتے دیکھا تو خود بھی ویسے ہی بننے لگے اور جو کتابوں سے علم حاصل کیا تھا وہ ویسے کا ویسا ہی رہا آگاہی نہ دے سکا،اساتذہ جو قوم کے معمار ہیں “اعلی نام”کا جام پی کر کچھ ایسی غفلت کے مرتکب ہوئے کہ ان کے نزدیک اپنے ادارے کا نام معنی رکھنے لگا،وہ طالبعلوں کو اعلی نمبرات کے حصول کے لیے محض کتابیں رٹوانے پہ ترجیح دینے لگے انھیں طالبعلوں کے کردار،ان کے مسائل کی ذرا پروا نہ رہی اور یوں انسان کو با عمل بنانے والا دوسرا بڑا ذریعہ بھی کوتاہی برت گیا اور کتابی باتیں صرف کتابوں تک ہی محدود رہ گئیں،آدمی کو انسان نہ بنا سکیں۔
پھر والدین اور اساتذہ کی خواہشات تو پوری ہونے لگیں ،بچے اعلی سے اعلی نمبرات تو لینے لگے،اچھی سے اچھی نوکریاں بھی مل ہی گئیں مگر معاشرہ پستی کی طرف جانے لگا ،اخلاقی زوال کا شکار ہو گیا،حسد،نفرت عام ہونے لگی،جان کی کوئی قیمت نہ رہی،عزتیں سرعام نیلام ہونے لگیں ،جھوٹ وفریب پروان چڑھنے لگا اور انسان بے راہ روی کا شکار ہو کر پستی کی طرف جانے لگا۔
یہ سب کس وجہ سے ہوا؟گو کہ اس سب کی بہت سی وجوہات ہیں مگر ایک بڑی وجہ معاشرے کے دو اہم ستونوں یعنی “والدین اور اساتذہ ” کا اپنے اہم فرائض سے غفلت برتنا ہے،مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو کر اپنی اہم ذمہ داری بچوں کی تربیت سے کوتاہی برتنا ہے بچوں،طالبعلوں کو علم تو دینا مگر افسوس کہ عمل کرنا نہیں سکھانا ہے۔
اگر آپ والدین ہیں یا اساتذہ خدارا اپنے فرائض سے غفلت نہ برتئیے اور بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں عمل کا سنگار بھی کرائیں تاکہ یہ دنیا حقیقی معنوں میں امن و محبت کا گہوارہ بن جائے۔